Nikola Tesla The Visionary Who Changed the World

0
Nikola Tesla The Visionary Who Changed the World


دنیا میں کئی ایسے سائنسدان گزرے ہیں جنہوں نے اپنی اختراعات سے دنیا کو ایک نئی سمت دی، مگر انہیں وہ پذیرائی نہ ملی جس کے وہ حقدار تھے۔ ان میں سب سے نمایاں نام **نکولا ٹیسلا** کا ہے، جنہیں آج جدید ٹیکنالوجی کا معمار کہا جاتا ہے۔ ان کی زندگی جدوجہد، ایجادات، اور محرومیوں سے بھری ہوئی تھی، لیکن وہ ہمیشہ اپنے نظریات پر قائم رہے۔

نکولا ٹیسلا 10 جولائی 1856 کو آسٹریا ہنگری (موجودہ کروشیا) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک پادری تھے، جبکہ والدہ غیر رسمی طور پر ایجادات میں دلچسپی رکھتی تھیں۔ ٹیسلا کا ذہن شروع ہی سے غیر معمولی تھا۔ وہ روشنی اور توانائی کے بارے میں گہرائی سے سوچا کرتے تھے، اور یہی تجسس بعد میں انہیں ایک عظیم سائنسدان بنا گیا۔

نکولا ٹیسلا نے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی، مگر یونیورسٹی مکمل کیے بغیر ہی اسے چھوڑ دیا۔ ان کی سوچ عام لوگوں سے بہت آگے تھی۔ 1884 میں وہ امریکہ چلے گئے، جہاں انہیں مشہور موجد **تھامس ایڈیسن** کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔

ایڈیسن ڈی سی (Direct Current) بجلی کے حامی تھے، جبکہ ٹیسلا کا ماننا تھا کہ اے سی (Alternating Current) زیادہ مؤثر اور طاقتور ہے۔ جب ٹیسلا نے ایڈیسن کے ساتھ اختلاف کیا تو ایڈیسن نے ان کی بات کو اہمیت نہیں دی اور انہیں اپنی کمپنی سے نکال دیا۔

ٹیسلا نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اور **جارج ویسٹنگ ہاؤس** کے ساتھ مل کر اے سی کرنٹ کو عام کرنے کا آغاز کیا۔ یہ ایک ایسا نظریہ تھا جس نے پوری دنیا میں بجلی کے نظام کو بدل کر رکھ دیا۔

نکولا ٹیسلا نے اپنی زندگی میں 300 سے زائد پیٹنٹس (ایجادات کے حقوق) حاصل کیے۔ ان میں سے کچھ نمایاں ایجادات درج ذیل ہیں:


ریڈیو کی ایجاد 1943 میں امریکی عدالت نے باضابطہ طور پر ٹیسلا کو ریڈیو کا اصل موجد قرار دیا۔

ٹیسلا کوائل وائرلیس الیکٹریکل ٹرانسمیشن کے امکانات کو بڑھانے والی ایجاد۔

ایکس رے ٹیکنالوجی ایکس رے کے اصولوں پر کام کیا، مگر بدقسمتی سے اس دریافت کا سہرا دوسرے سائنسدان کے سر بندھ گیا۔

 وائرلیس بجلی پوری دنیا میں بجلی بغیر کسی تار کے فراہم کرنے کا خواب، جو سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ناکام رہا۔

نیون لائٹس اور جدید روشنی کا نظام آج جو نیون لائٹس دنیا بھر میں استعمال ہو رہی ہیں، وہ دراصل ٹیسلا کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔

دنیا نے ٹیسلا کو کیوں نظر انداز کیا؟

مالی مشکلات** – انہیں کبھی بھی مالی استحکام حاصل نہیں ہوا کیونکہ وہ پیسہ کمانے کے بجائے اپنی ایجادات پر توجہ دیتے تھے۔

سرمایہ داروں کی مخالفت بڑی کاروباری شخصیات جیسے جے پی مورگن اور ایڈیسن نے ان کے منصوبوں کو سپورٹ نہیں کیا۔

اعتراف نہ ملنا ان کی بہت سی ایجادات کا سہرا دوسروں کو دے دیا گیا۔

آگے کی سوچ وہ وائرلیس بجلی، توانائی کے متبادل ذرائع اور جدید مواصلاتی نظام کے خواب دیکھ رہے تھے، جو اس وقت کے لوگوں کے لیے ناقابلِ فہم تھے۔

اپنی زندگی کے آخری سالوں میں ٹیسلا انتہائی تنہائی اور غربت میں چلے گئے۔ وہ نیویارک کے ایک ہوٹل میں مقیم تھے، جہاں وہ کبوتر پالنے اور سائنسی تحقیق میں مصروف رہتے۔ 7 جنوری 1943 کو، وہ 86 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔


اگرچہ نکولا ٹیسلا کو ان کی زندگی میں وہ عزت نہیں ملی، مگر آج انہیں جدید سائنسی ترقی کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ ٹیسلا کی ایجادات نے ٹیکنالوجی، انرجی، اور کمیونیکیشن کے شعبے میں انقلاب برپا کیا۔

آج ٹیسلا کمپنی جو کہ الیکٹرک گاڑیاں بناتی ہے، نکولا ٹیسلا کے نام سے منسوب ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ دنیا نے بالآخر اس نابغہ سائنسدان کی عظمت کو تسلیم کر لیا ہے۔


ٹیسلا کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اصلی کامیابی وہ ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ امر ہو جائے۔



Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !