Surrounded by Idiots Book Review Understand People and Improve Communication

0

Surrounded by Idiots Book Review Understand People and Improve Communication

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ لوگ آپ کی بات ایک ہی بار میں سمجھ لیتے ہیں،
اور کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ جتنی بار سمجھائیں، وہ ہمیشہ الٹی سمت ہی چلتے ہیں؟

کبھی دفتر میں ایسا لگتا ہے جیسے آپ دیوار سے بات کر رہے ہوں۔
کبھی گھر میں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں، مگر سامنے والا کچھ اور ہی سن لیتا ہے۔
کبھی دوستوں کے درمیان ایک جملہ بولتے ہیں، اور وہی جملہ غلط فہمی کی آگ لگا دیتا ہے۔

آپ کہتے کچھ ہیں…
وہ سمجھتے کچھ اور ہیں۔

آپ ایک سیدھی، سادہ بات کرتے ہیں…
سامنے والا اسے بلاوجہ پیچیدہ بنا دیتا ہے۔

اور پھر ایک لمحہ آتا ہے،
جب انسان تھک جاتا ہے۔
سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور دل ہی دل میں کہتا ہے:

یار، آخر مسئلہ کیا ہے؟
یہ لوگ میری بات کیوں نہیں سمجھتے؟
کیا واقعی میرے اردگرد سب جاہل لوگ ہیں؟

یہی وہ سوال ہے جس سے ایک دنیا بدل دینے والی کتاب جنم لیتی ہے۔
اسی سوال پر Surrounded by Idiots کی بنیاد رکھی گئی۔

جب پہلی بار اس کتاب کا نام سامنے آتا ہے
Surrounded by Idiots
تو دل میں فوراً ایک خیال آتا ہے:

“یہ تو بالکل میری زندگی کی کہانی ہے!”

لیکن ذرا ٹھہریے…
یہ کتاب آپ کو دوسروں کو جاہل ثابت کرنے کے لیے نہیں لکھی گئی۔
بلکہ یہ کتاب آپ کو خود زیادہ سمجھدار بنانے کے لیے لکھی گئی ہے۔

مصنف Thomas Erikson ایک چونکا دینے والی بات کہتا ہے:

مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے اردگرد لوگ ناسمجھ ہیں،
مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب کو اپنی طرح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم سب ایک خاموش مگر خطرناک غلط فہمی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔
ہم یہ مان لیتے ہیں کہ:

لوگ ہماری طرح سوچتے ہیں

ہماری طرح ردِعمل دیتے ہیں

ہماری طرح جذبات محسوس کرتے ہیں

اور ہماری طرح فیصلے کرتے ہیں

ہمیں لگتا ہے کہ جو بات ہمیں بالکل سیدھی لگتی ہے،
وہ سامنے والے کو بھی ویسی ہی لگے گی۔

لیکن کتاب کہتی ہے:
یہ سوچ سب سے بڑی غلطی ہے۔

انسان ایک جیسے نہیں ہوتے۔
نہ ان کا دماغ ایک جیسا ہوتا ہے،
نہ ان کا دل،
اور نہ ہی ان کا اندازِ گفتگو۔

اصل مسئلہ کہاں ہے؟

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ آپ کی بات نہیں سمجھتے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ:

آپ ان کی زبان میں بات نہیں کر رہے۔

ہم اپنی سوچ کے مطابق بات کرتے ہیں،
مگر سامنے والا اپنی سوچ کے مطابق سنتا ہے۔
یہی وہ فرق ہے جو رشتوں میں تلخی،
دفتر میں تنازع
اور زندگی میں الجھن پیدا کرتا ہے۔

یہ کتاب آپ سے ایک وعدہ کرتی ہے:

اگر آپ نے لوگوں کو سمجھنے کا صحیح طریقہ سیکھ لیا،
تو وہی لوگ جو آج آپ کو مشکل لگتے ہیں،
کل آپ کے لیے آسان بن جائیں گے۔

یہ کتاب کہتی ہے کہ لوگوں کو سمجھنے کے لیے
آپ کو ان کے سوچنے کے انداز کو سمجھنا ہوگا،
نہ کہ انہیں بدلنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

اصل مسئلہ لوگ نہیں، ہماری سمجھ ہے

اگر ہم سچ بولیں تو زیادہ تر جھگڑے، غلط فہمیاں اور دل آزاری اس لیے نہیں ہوتیں کہ سامنے والا بُرا ہے،
بلکہ اس لیے ہوتی ہیں کہ ہم اسے اپنی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں، اس کی نظر سے نہیں۔

ہم یہ مان لیتے ہیں کہ جو بات ہمیں صاف، واضح اور منطقی لگ رہی ہے،
وہ سامنے والے کو بھی ویسی ہی محسوس ہو رہی ہوگی۔
لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

کتاب ہمیں ایک تلخ مگر ضروری حقیقت سے روشناس کراتی ہے:
ہر انسان ایک الگ دنیا ہے۔

ہم اپنی سوچ دوسروں پر کیوں مسلط کرتے ہیں؟

ہم میں سے ہر شخص اپنی پرورش، تجربات، ماحول اور حالات کے تحت ایک خاص انداز میں سوچنا سیکھتا ہے۔
لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ:

“اگر میں ایسا سوچتا ہوں تو سب کو ایسا ہی سوچنا چاہیے”

یہی وہ لمحہ ہے جہاں مسئلہ جنم لیتا ہے۔
کیونکہ سامنے والا آپ کی بات سن تو رہا ہوتا ہے،
مگر اپنے ذہنی فلٹر سے سن رہا ہوتا ہے۔

آپ کی بات اس کے ذہن تک پہنچنے سے پہلے بدل جاتی ہے۔

ایک عام مثال، جو سب نے دیکھی ہے

فرض کریں آپ دفتر میں کسی سے کہتے ہیں:
“یہ کام جلدی مکمل ہونا چاہیے۔”

آپ کے لیے “جلدی” کا مطلب ہے:
کام آج ختم ہو جائے۔

لیکن سامنے والے کے لیے “جلدی” کا مطلب ہو سکتا ہے:
دو دن بعد۔

نتیجہ؟
آپ ناراض،
وہ حیران۔

آپ سوچتے ہیں:
“یہ بندہ میری بات کیوں نہیں سمجھتا؟”

وہ سوچتا ہے:
“میں نے تو بالکل ٹھیک کیا، پھر مسئلہ کیا ہے؟”

یہی وہ مقام ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کو “idiots” سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔

کتاب کا سب سے طاقتور جملہ

مصنف تھامس ایرکسن کہتا ہے:

“لوگ احمق نہیں ہوتے،
وہ صرف آپ جیسے نہیں ہوتے۔”

یہ ایک ایسا جملہ ہے جو اگر دل میں اتر جائے،
تو انسان کا لوگوں کو دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے۔

لوگوں کو سمجھنے کا پہلا اصول

کتاب کا پہلا اور سب سے اہم اصول یہ ہے:

لوگوں کو بدلنے کی کوشش چھوڑ دیں،
لوگوں کو سمجھنے کی کوشش شروع کریں۔

کیونکہ:

لوگ زبردستی نہیں بدلتے

لوگ ڈانٹ سے نہیں سمجھتے

لوگ آپ کی منطق نہیں، اپنی فطرت پر چلتے ہیں

جب تک آپ اس فطرت کو نہیں سمجھیں گے،
آپ کی ہر بات ٹکرا کر واپس آتی رہے گی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں “چار رنگ” داخل ہوتے ہیں

کتاب یہاں ایک ایسا تصور پیش کرتی ہے
جو باتوں کو الجھانے کے بجائے آسان بنا دیتا ہے۔

مصنف کہتا ہے:
اگر ہم انسانوں کو پیچیدہ فلسفوں میں نہ الجھائیں،
تو ہم انہیں چار بنیادی اندازِ فکر میں سمجھ سکتے ہیں۔

یہی وہ چار رنگ ہیں
جو انسانوں کی سوچ، فیصلوں، جذبات اور رویوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

کوئی طاقت سے سوچتا ہے

کوئی جذبات سے

کوئی تعلقات سے

کوئی منطق سے

اور یہی فرق ہمیں ایک دوسرے سے ٹکرا دیتا ہے۔

مسئلہ تب بنتا ہے جب رنگ ٹکراتے ہیں

جب ایک طاقتور انداز رکھنے والا شخص
ایک نرم دل انسان سے بات کرتا ہے
اور دونوں اپنی اپنی زبان میں بولتے ہیں،
تو مسئلہ پیدا ہونا لازمی ہے۔

ایک کہتا ہے:
“سیدھی بات کرو!”

دوسرا کہتا ہے:
“ذرا احساس بھی تو کرو!”

دونوں خود کو ٹھیک سمجھتے ہیں،
اور سامنے والے کو غلط۔

یہ حصہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:

ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا

ہر خاموشی بے وقوفی نہیں ہوتی

ہر تیز لہجہ بدتمیزی نہیں ہوتا

اکثر یہ صرف مختلف سوچنے کا انداز ہوتا ہے۔

چار رنگ، چار ذہن — انسانوں کو سمجھنے کا اصل راز

اب تک ہم یہ سمجھ چکے ہیں کہ مسئلہ لوگوں میں نہیں،
بلکہ ہماری سمجھ میں ہے۔
اب سوال یہ ہے:

آخر وہ کون سا فرق ہے جو انسانوں کو ایک دوسرے سے اتنا مختلف بنا دیتا ہے؟

اسی سوال کا جواب Surrounded by Idiots ہمیں ایک سادہ مگر طاقتور نظام میں دیتی ہے:
چار رنگ۔

یہ رنگ کوئی فیشن یا تصوراتی بات نہیں،
بلکہ انسانوں کے سوچنے، فیصلہ کرنے اور ردِعمل دینے کے انداز کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جب آپ ان رنگوں کو سمجھ لیتے ہیں،
تو لوگ آپ کو مشکل نہیں لگتے،
بلکہ قابلِ فہم لگنے لگتے ہیں۔

🔴 سرخ رنگ — طاقت، رفتار اور فیصلہ

سرخ رنگ کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو:

تیز سوچتے ہیں

فوراً فیصلہ کرتے ہیں

طاقت اور کنٹرول پسند کرتے ہیں

لمبی باتوں سے بیزار ہوتے ہیں

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں:
“مجھے نتیجہ چاہیے، کہانی نہیں”

سرخ رنگ سے بات کرتے وقت غلطی کہاں ہوتی ہے؟

مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب آپ سرخ رنگ والے شخص سے
نرمی، جذبات اور گھما پھرا کر بات کرتے ہیں۔

آپ کہتے ہیں:
“اگر آپ کو برا نہ لگے تو شاید ہم اس پر غور کر سکتے ہیں…”

وہ سوچتا ہے:
“یہ بات کرے گا یا وقت ضائع کرے گا؟”

نتیجہ؟
وہ آپ کو سخت،
اور آپ اسے بدتمیز سمجھنے لگتے ہیں۔

🟡 پیلا رنگ — خوشی، باتیں اور تعلق

پیلا رنگ والے لوگ:

باتونی ہوتے ہیں

ماحول کو زندہ رکھتے ہیں

تعریف اور توجہ پسند کرتے ہیں

جذبات سے فیصلے کرتے ہیں

یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں:
“زندگی صرف کام کا نام نہیں”

پیلے رنگ کے ساتھ مسئلہ کہاں آتا ہے؟

جب آپ پیلے رنگ والے شخص سے
صرف قوانین، اعداد و شمار اور سخت لہجے میں بات کرتے ہیں،
تو وہ اندر ہی اندر بند ہو جاتا ہے۔

آپ کہتے ہیں:
“یہ اصول ہے، بس فالو کرو”

وہ سوچتا ہے:
“یہ انسان ہے یا مشین؟”

🟢 سبز رنگ — صبر، خاموشی اور وفاداری

سبز رنگ کے لوگ:

بہت صابر ہوتے ہیں

ٹکراؤ سے بچتے ہیں

تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں

تبدیلی سے گھبراتے ہیں

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کم بولتے ہیں،
مگر دل سے بولتے ہیں۔

سبز رنگ کو سب سے زیادہ غلط سمجھا جاتا ہے

اکثر لوگ سبز رنگ والوں کو:

کمزور

سست

یا ناسمجھ

سمجھ لیتے ہیں۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ سب سے زیادہ وفادار اور قابلِ اعتماد ہوتے ہیں۔

مسئلہ تب بنتا ہے جب آپ ان پر زور ڈالتے ہیں:
“ابھی فیصلہ کرو!”

وہ مسکرا دیتے ہیں،
مگر اندر سے ٹوٹ جاتے ہیں۔

🔵 نیلا رنگ — منطق، تفصیل اور کمال

نیلا رنگ والے لوگ:

ہر بات کی وجہ جاننا چاہتے ہیں

تفصیل کے بغیر مطمئن نہیں ہوتے

معیار اور کمال کے قائل ہوتے ہیں

جذبات کے بجائے حقائق پر یقین رکھتے ہیں

یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں:
“ثبوت دو، پھر مانوں گا”

نیلے رنگ سے مسئلہ کیوں ہوتا ہے؟

جب آپ نیلے رنگ والے شخص سے
جذبات، جلد بازی یا آدھی معلومات کے ساتھ بات کرتے ہیں،
تو وہ فوراً آپ پر شک کرنے لگتا ہے۔

آپ کہتے ہیں:
“بس مجھے لگتا ہے یہ ٹھیک ہے”

وہ سوچتا ہے:
“لگتا ہے؟ ثبوت کہاں ہے؟”

اصل مسئلہ رنگ نہیں، ٹکراؤ ہے

کتاب کہتی ہے:
کوئی رنگ بُرا نہیں۔

مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب:

سرخ، سبز کو دبانے لگے

پیلا، نیلے کو غیر جذباتی سمجھے

نیلا، پیلے کو غیر سنجیدہ کہے

سبز، سب کو خوش رکھنے کی کوشش میں خود کو بھول جائے

یہی وہ مقام ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کو
“idiots” سمجھنے لگتے ہیں۔

یہ حصہ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

ہر انسان کا انداز الگ ہے

ہر انداز کی اپنی طاقت ہے

مسئلہ تب بنتا ہے جب ہم ایک ہی زبان سب پر لاگو کرتے ہیں
رنگ پہچاننا — لوگوں کی زبان سمجھنے کی کنجی

اب ہم نے چار رنگوں کے بنیادی تصور کو سمجھ لیا ہے،
تو اگلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم سامنے والے کے رنگ کو پہچانیں تاکہ ہم اس سے صحیح طریقے سے بات کر سکیں اور غیر ضروری الجھنوں سے بچ سکیں۔

مصنف تھامس ایرکسن بتاتے ہیں کہ ہر رنگ کے لوگ اپنی حرکات، بولنے کے انداز اور ردعمل کے ذریعے نمایاں ہوتے ہیں، اور اگر ہم تھوڑا دھیان دیں تو انہیں فوراً پہچان سکتے ہیں۔
یہ سمجھنا اتنا طاقتور ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ نے لوگوں کے ذہن کا پاسورڈ حاصل کر لیا ہو، اور آپ کی بات فوراً سمجھ میں آ جائے۔

🔴 سرخ رنگ کو پہچاننا

سرخ رنگ والے لوگ اکثر تیز چلتے ہیں، صاف بات کرتے ہیں، اور فوری فیصلے لیتے ہیں۔
وہ لمبی وضاحت یا غیر ضروری باتوں میں وقت ضائع کرنا پسند نہیں کرتے۔
ان کے لہجے میں ایک قدرتی اعتماد اور طاقت نظر آتی ہے، اور وہ اکثر کام کے معاملے میں سیدھی اور واضح ہدایات چاہتے ہیں۔

اگر آپ ان کے ساتھ بات کر رہے ہیں تو غلط فہمی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آپ نرم لہجہ استعمال کریں، جذبات کو زیادہ اہمیت دیں، یا ہر بات کو گھما پھرا کر بیان کریں۔
یہ لوگ ایسی باتوں کو وقت ضائع کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں اور اندر ہی اندر پریشان ہو جاتے ہیں، جبکہ آپ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آپ نے محبت اور نرمی سے بات کی۔

🟡 پیلا رنگ کو پہچاننا

پیلا رنگ والے لوگ خوش مزاج، باتونی، اور پرجوش ہوتے ہیں۔
وہ ہر ماحول میں مثبت توانائی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں اور اکثر اپنی بات چیت میں ہنسی مذاق اور جذبات شامل کر لیتے ہیں۔
وہ لوگوں سے تعلقات قائم کرنے میں مہارت رکھتے ہیں اور تعریف یا وجہ کے بغیر کام کرنے میں کم دلچسپی لیتے ہیں۔

ان کے ساتھ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ صرف سخت حقائق اور اعداد و شمار پر بات کریں، جذبات یا مزاح کو نظرانداز کریں، یا ان کے جوش کو روکنے کی کوشش کریں۔
ایسا کرنے سے وہ اندر ہی اندر رک جاتے ہیں اور آپ کو غیر جذباتی یا سخت سمجھنے لگتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ صرف اپنی فطرت کے مطابق ہیں۔

🟢 سبز رنگ کو پہچاننا

سبز رنگ والے لوگ صبر، استقامت، اور وفاداری کے حامل ہوتے ہیں۔
وہ تبدیلی سے گھبراتے ہیں، تنازع سے بچتے ہیں، اور تعلقات کو برقرار رکھنے میں سب سے زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہ لوگ بہت سنجیدہ اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں، اور اکثر خاموش رہنا ترجیح دیتے ہیں تاکہ ماحول میں ہم آہنگی برقرار رہے۔

ان کے ساتھ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ ان پر زور ڈالیں، انہیں جلدی میں فیصلے کرنے پر مجبور کریں، یا ان کی فطرت کو نظرانداز کریں۔
ایسا کرنے سے وہ اندر سے دب جاتے ہیں، اور آپ سوچتے ہیں کہ وہ کمزور یا سست ہیں، حالانکہ وہ سب سے زیادہ سمجھدار اور وفادار لوگ ہوتے ہیں جو مشکل وقت میں آپ کا ساتھ دیتے ہیں۔

🔵 نیلا رنگ کو پہچاننا

نیلا رنگ والے لوگ منطقی، تجزیہ پسند، اور تفصیل کے شوقین ہوتے ہیں۔
وہ ہر بات میں حقائق اور ثبوت چاہتے ہیں اور جذباتی دلائل یا آدھی معلومات پر اعتماد نہیں کرتے۔
یہ لوگ معیار اور کامل کارکردگی کے قائل ہوتے ہیں، اور وہ ہر قدم پر منطقی وضاحت چاہتے ہیں۔

ان کے ساتھ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آپ جذبات، جلد بازی، یا ادھوری معلومات کے ساتھ بات کرتے ہیں۔
وہ فوراً آپ کی بات پر شک کرتے ہیں اور آپ کی نیت کو پرکھنے لگتے ہیں، اور آپ سوچتے ہیں کہ وہ ضدی یا مشکل ہیں، حالانکہ وہ صرف حقیقت اور وضاحت کے قائل ہیں۔

رنگ پہچاننے کے فوائد

جب آپ لوگوں کے رنگ پہچان لیتے ہیں اور ان کے مطابق بات کرتے ہیں، تو کئی عجیب و غریب فوائد حاصل ہوتے ہیں:

آپ کی بات فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے، اور لوگوں کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

اختلاف اور جھگڑے کم ہو جاتے ہیں کیونکہ ہر شخص اپنی فطرت کے مطابق بات سمجھ رہا ہوتا ہے۔

تعلقات مضبوط اور بہتر ہوتے ہیں، چاہے وہ دفتر، گھر یا دوستوں کے حلقے ہوں۔

آپ خود بھی زیادہ پر اعتماد اور مؤثر کمیونیکیٹر بن جاتے ہیں۔

یہ عمل بالکل ایسا ہے جیسے آپ نے ہر انسان کے دماغ میں ایک ہدایتی نقشہ دیکھ لیا ہو، اور اب آپ جانتے ہیں کہ کس سے کس انداز میں بات کریں تاکہ وہ فوراً سمجھ جائے اور عمل کرے۔

علم رنگ کا عملی استعمال — زندگی، تعلقات اور کام میں انقلاب

اب جب ہم نے چار رنگوں کو سمجھ لیا اور پہچاننا بھی سیکھ لیا،
وقت آ گیا ہے کہ ہم اس علم کو عملی زندگی میں کیسے استعمال کریں۔
کیونکہ علم صرف تب تک قیمتی ہے جب اسے استعمال کیا جائے، اور یہ کتاب ہمیں یہی سکھاتی ہے:
لوگوں کو سمجھنا اور ان کے مطابق بات کرنا ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔

دفتر میں رنگوں کا استعمال

دفتر یا کام کی جگہ پر اکثر ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ کسی بات کو سمجھانا مشکل ہے۔
لیکن اگر آپ نے سامنے والے کے رنگ کو پہچان لیا،
تو آپ کی ہر بات فوری اثر ڈال سکتی ہے۔

سرخ رنگ والے: انہیں سیدھی، واضح اور فوری ہدایات دیں۔ تفصیل میں الجھانے کی ضرورت نہیں۔

پیلا رنگ والے: جذبات، حوصلہ افزائی اور تعریف کے ساتھ بات کریں، تاکہ وہ خوش رہیں اور فعال رہیں۔

سبز رنگ والے: صبر، احترام اور اعتماد دکھائیں، اور تبدیلی کے لیے وقت دیں۔

نیلا رنگ والے: حقائق، ثبوت اور منطقی وضاحت فراہم کریں، تاکہ وہ آپ کی بات پر یقین کریں۔

ایسا کرنے سے نہ صرف کام تیزی سے مکمل ہوگا، بلکہ ٹیم کے اندر اعتماد اور ہم آہنگی بھی پیدا ہوگی، اور جھگڑے تقریباً ختم ہو جائیں گے۔

گھر اور رشتوں میں رنگوں کی اہمیت

یہ کتاب صرف دفتر کے لیے نہیں، بلکہ گھر اور رشتوں کے لیے بھی ایک انمول رہنما ہے۔
اگر ہم اپنے والدین، بھائی بہن، بیوی، شوہر یا دوستوں کو ان کے رنگ کے مطابق سمجھیں اور بات کریں، تو:

تلخیاں کم ہوں گی

تعلقات مضبوط ہوں گے

جذباتی سکون اور محبت میں اضافہ ہوگا

مثلاً، اگر آپ کا ساتھی سبز رنگ والا ہے اور آپ اسے جلدی میں فیصلہ کرنے پر مجبور کریں،
تو وہ اندر ہی اندر ناراض ہو جائے گا۔
لیکن اگر آپ صبر سے، نرمی اور اعتماد کے ساتھ بات کریں،
تو وہ خوش ہو جائے گا اور ہر فیصلہ آپ کے ساتھ تعاون کے ساتھ کرے گا۔

روزمرہ زندگی میں رنگوں کی طاقت

ہماری روزمرہ زندگی میں ہم روزانہ درجنوں لوگوں سے بات کرتے ہیں:
کمیونٹی، دوست، اسٹور میں دکان دار، آن لائن کالز، یا سوشل میڈیا پر۔

جب آپ ان لوگوں کو ان کے انداز کے مطابق پہچان کر بات کریں گے:

لوگ فوراً سمجھنے لگیں گے

آپ کی بات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا

غلط فہمیاں کم ہوں گی

اور زندگی میں سکون اور مطمئن تعلقات پیدا ہوں گے

یہ علم ایک طاقتور کمیونیکیشن ہتھیار بن جاتا ہے، جو آپ کی شخصیت، پیشہ اور تعلقات سب کچھ بدل سکتا ہے۔

سب سے اہم سبق

Surrounded by Idiots کا سب سے اہم سبق یہ ہے:

“لوگ احمق نہیں ہوتے، صرف مختلف ہوتے ہیں۔
آپ کے اردگرد جو لوگ مشکل لگتے ہیں، وہ صرف آپ کی زبان نہیں سمجھ پا رہے۔
انہیں سمجھنے کی زبان سیکھیں، اور سب کچھ بدل جائے گا۔”

یہ ایک ایسا فلسفہ ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں لاگو کیا جا سکتا ہے:
دفتر، گھر، دوست، کاروبار، اور یہاں تک کہ خود آپ کے ذاتی رویے میں بھی۔

عملی ٹپس

رنگ پہچانیں: لوگوں کے اندازِ بات، ردعمل اور رویے پر غور کریں۔

اپنی زبان بدلیں: ہر رنگ کے مطابق بات کریں، جذبات، منطق یا صبر کا استعمال کریں۔

تلخیوں کو کم کریں: غیر ضروری تنقید، جلد بازی یا اعداد و شمار کے بغیر بات چیت سے بچیں۔

اپنے آپ کو بھی سمجھیں: آپ خود کس رنگ کے ہیں، یہ جاننا بھی ضروری ہے تاکہ اپنی کمزوریوں اور طاقت کو سمجھیں۔

تعلق مضبوط کریں: تعلقات میں اس علم کو استعمال کریں تاکہ جھگڑے کم ہوں اور اعتماد بڑھے۔

نتیجہ

اگر آپ نے اس فلسفے کو سمجھ لیا،
تو زندگی آسان، تعلقات مضبوط اور کام مؤثر ہو جائے گا۔
یہ کتاب صرف یہ نہیں بتاتی کہ لوگ آپ کے اردگرد کیوں مشکل ہیں،
بلکہ یہ بتاتی ہے کہ کیسے آپ اپنی سوچ بدل کر دنیا کو آسان بنا سکتے ہیں۔

اگر آپ واقعی اپنی زندگی، تعلقات اور کام کو بہتر بنانا چاہتے ہیں،
تو آج ہی یہ قدم اٹھائیں:

کتاب پڑھیں اور رنگ پہچاننے کی مشق کریں

روزانہ لوگوں کے ساتھ بات چیت میں رنگوں کا استعمال کریں

اور اپنی کمیونیکیشن کی طاقت کو اتنی مضبوط بنائیں کہ آپ کی بات فوراً سمجھی جائے

یاد رکھیں، لوگوں کو بدلنا مشکل ہے،
لیکن اپنی سمجھ اور بات کرنے کے انداز کو بدلنا سب سے آسان اور طاقتور راستہ ہے۔

یہ علم آپ کو زندگی، محبت، کام اور تعلقات سب میں کامیابی دے سکتا ہے، اور آپ کے اردگرد کی دنیا کو واقعی بدل سکتا ہے۔



Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !