دنیا میں ہر عمل کا ایک انجام ہوتا ہے، چاہے وہ اچھا ہو یا برا۔ بعض اوقات ہم جو کچھ دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں، وہی ہمارے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں واپس آتا ہے۔ آج کی کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو دولت اور غرور میں اندھا ہو چکا تھا، لیکن وقت نے اس کو وہ سبق سکھایا جس نے اس کی زندگی بدل دی۔
ایک عجیب رویہ
ہر روز ایک بھکاری ایک رئیس کے دروازے پر آتا اور اللہ کے نام پر کچھ مانگتا۔ لیکن وہ بھکاری ایک عجیب بات کرتا تھا، جب بھی وہ رئیس کو دیکھتا تو غصے سے پاگل ہو جاتا اور چیخ کر کہتا:
"تم ساری زندگی بھیک مانگ کر کیوں کھاتے ہو؟"
اس کے جواب میں رئیس ہمیشہ نرمی سے کہتا:
"اللہ آپ کے گناہ معاف فرمائے۔"
لیکن رئیس کے دل میں کبھی یہ سوال نہ آیا کہ بھکاری اسے دیکھ کر غصے میں کیوں آتا ہے؟ وہ اپنے غرور میں مست تھا اور بھکاری کی حالت پر ہنستا رہتا۔
قسمت کا پلٹا
دنیا کی کوئی چیز ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ ایک دن رئیس پر برا وقت آ گیا، اس کا کاروبار ڈوب گیا، دولت ختم ہو گئی اور وہ قرضوں میں ڈوب گیا۔ جب حالات بدتر ہو گئے تو وہ فکرمند ہو کر گھر میں بیٹھا تھا کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ وہی بھکاری، جو روز اس کے دروازے پر آتا تھا، آج بھی وہاں کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا:
"بابا، اللہ آپ کا بھلا کرے!"
لیکن رئیس کو غصہ آ گیا۔ اس نے بھکاری کو زور سے دھکا دیا، جس سے وہ نیچے گر گیا اور اس کا سر پتھر سے ٹکرا گیا۔ زخم سے خون بہنے لگا، لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ بھکاری پھر بھی رونے لگا اور کچھ نہ کہا۔ رئیس یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس کے دل میں سوال آیا:
"یہ شخص اتنا کچھ سہنے کے باوجود مجھے بددعا کیوں نہیں دیتا؟"
حقیقت کا انکشاف
وقت کا کھیل بڑا عجیب ہوتا ہے۔ رئیس کے پاس اب کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا، وہ خود بھیک مانگنے نکل پڑا۔ جہاں کبھی وہ ہزاروں خرچ کرتا تھا، آج اسے چند سکّے بھی ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کچھ لوگ اسے دھتکارتے، کچھ اسے برا بھلا کہتے اور کچھ دھکے بھی دے دیتے۔
رات کو وہ ایک جگہ تھک کر بیٹھا تھا کہ اچانک ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی، یہ وہی بھکاری کی بیوی تھی۔ وہ اپنے شوہر کو زخمی حالت میں دیکھ کر ڈر گئی اور چیخ کر بولی:
"یہ تمہارے سر سے خون کیوں بہہ رہا ہے؟ کیا ہوا؟"
بھکاری نے ایک گہری سانس لی اور کہا:
"آج سب نے مجھے دھکے دیے، مجھے گالیاں دیں، کسی نے میری مدد نہیں کی۔ لیکن میں جانتا ہوں، یہ سب میرے گناہوں کا بدلہ ہے۔ جو کچھ میں نے کیا تھا، وہی میرے ساتھ ہو رہا ہے۔"
ایک تکلیف دہ یاد
رئیس حیرت سے بھکاری کی باتیں سن رہا تھا۔ وہ بولا:
"تمہارا مطلب کیا ہے؟"
بھکاری کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے ماضی کی ایک حقیقت بیان کی:
"ہم کچھ سال پہلے بہت امیر تھے۔ ہمارے پاس سب کچھ تھا، لیکن ہمارے دل میں رحم نہیں تھا۔ جب کوئی غریب ہمارے دروازے پر آتا، تو ہم اسے حقارت سے دیکھتے، بعض اوقات ان کے برتن میں مٹی ڈال دیتے اور ان کا مذاق اڑاتے۔ خاص طور پر ایک نابینا بھکاری جو روز ہمارے دروازے پر آتا تھا، ہم اس کی پلیٹ میں کاغذ کے ٹکڑے ڈال دیتے اور وہ ہمیشہ بس اتنا کہتا:
'اللہ تمہیں تمہارے کرتوتوں کی سزا دے گا۔'"
معافی کا لمحہ
یہ کہانی سنتے ہی رئیس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اگلی صبح جب بھکاری رئیس کے دروازے کے قریب پہنچا تو اس نے حیرت دیکھی۔ رئیس باہر کھڑا تھا اور اس کا انتظار کر رہا تھا۔ جیسے ہی بھکاری قریب آیا، رئیس نے اسے اندر بلایا، اسے عزت سے کھانا کھلایا، کچھ پیسے دیے اور پھر اس کے قدموں میں گر کر رونے لگا۔
"بھائی، مجھے معاف کر دو، میں نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔"
بھکاری نے نرمی سے مسکرا کر کہا:
"اللہ تمہیں ہدایت دے۔ ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں، اللہ ہمیں ضرور مہلت دیتا ہے، لیکن اگر ہم نے توبہ نہ کی تو ہمارا حساب ضرور لیا جاتا ہے۔"
سبق
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ:
دولت اور غرور ہمیشہ نہیں رہتے۔
جو دوسروں کے ساتھ کرتے ہیں، وہی کسی نہ کسی صورت میں ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔
اللہ ہمیں ہمیشہ مہلت دیتا ہے، لیکن ہمیں وقت پر توبہ کرنی چاہیے۔
نرمی اور سخاوت سب سے بڑی دولت ہے۔
اگر ہم آج کسی کو حقیر سمجھ کر نظرانداز کر رہے ہیں، تو ہو سکتا ہے کہ کل ہم بھی اسی آزمائش میں مبتلا ہو جائیں۔ لہٰذا، ہمیں ہمیشہ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے اور اللہ سے ہر وقت معافی مانگنی چاہیے۔ اللہ ہمیں ہدایت دے! آمین۔
.png)
0 Comments