The Power of Now Urdu Book Summary

0
The Power of Now book cover Urdu version  Eckhart Tolle book summary in Urdu language

"The Power of Now" یعنی "اب کے لمحے کی طاقت" ایک ایسی روحانی، فکری اور عملی کتاب ہے جس نے لاکھوں قارئین کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں پیدا کیں۔ اس کتاب کے مصنف ایکارٹ ٹولے (Eckhart Tolle) نے اسے محض فلسفہ یا تھیوری نہیں بنایا بلکہ ایک ایسا عملی رہنما بنا دیا جو انسان کو ذہنی غلامی، ماضی کی پچھتاؤں اور مستقبل کے خوف سے نکال کر موجودہ لمحے میں جینا سکھاتا ہے۔ کتاب کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ہم جب تک حال کے لمحے میں مکمل طور پر موجود نہیں ہوتے، تب تک ہمیں حقیقی سکون، خوشی یا آزادی حاصل نہیں ہو سکتی۔

یہ کتاب نہ صرف فلسفیانہ بصیرتوں سے لبریز ہے بلکہ اس میں روزمرہ زندگی کے عملی مشورے بھی دیے گئے ہیں۔ یہ پڑھنے والے کو چیلنج کرتی ہے کہ وہ خود سے سوال کرے: کیا میں واقعی زندہ ہوں؟ یا صرف ذہنی شور میں گم ایک مشینی زندگی گزار رہا ہوں؟ یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے ہے جو حقیقی آزادی، گہرے سکون اور اندرونی تبدیلی کی تلاش میں ہے۔

ماضی، مستقبل اور حال کی جنگ:

انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے کہ وہ یا تو ماضی کی یادوں، غلطیوں اور دکھوں میں پھنسا رہتا ہے، یا پھر مستقبل کی امیدوں، منصوبوں اور خوفوں میں گم رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ موجودہ لمحے، جو کہ اصل زندگی ہے، کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ ماضی ہمیں پچھتاووں کی زنجیروں میں جکڑ لیتا ہے اور مستقبل ہمیں غیر یقینی خوف میں مبتلا کر دیتا ہے۔

ایکارٹ ٹولے کہتے ہیں کہ ماضی صرف یادوں کا ایک ذخیرہ ہے، جو گزر چکا ہے اور اب اس کی کوئی عملی حقیقت نہیں۔ اسی طرح مستقبل بھی محض تخیل ہے، جو ابھی آیا ہی نہیں۔ ہم اگر اپنی توجہ کو مسلسل ان دو طرف دھکیلتے رہیں گے تو ہم کبھی بھی اپنے اصل وجود، اپنی اصلی حالت سے رابطہ قائم نہیں کر پائیں گے۔ یہی لمحہ، یہ "اب" ہی وہ جگہ ہے جہاں زندگی کا جوہر چھپا ہوا ہے۔ جب ہم حال کے لمحے کو پوری طرح محسوس کرتے ہیں تو ماضی خود بخود تحلیل ہونے لگتا ہے اور مستقبل کے خدشے خود بہ خود بے معنی ہو جاتے ہیں۔

ذہن کی غلامی سے نجات:

انسان کا ذہن بہت زبردست آلہ ہے، مگر اکثر لوگ اس کے غلام بن کر زندگی گزارتے ہیں۔ سوچیں، خدشے، یادیں اور پریشانیاں ان کے ذہن میں مسلسل گھومتی رہتی ہیں، اور وہ انہیں حقیقت مان لیتے ہیں۔ ذہن مسلسل تجزیہ کرتا ہے، سوچتا ہے، تخمینہ لگاتا ہے — مگر یہ عمل اکثر حد سے بڑھ جاتا ہے اور انسان ذہنی بےچینی، بے سکونی اور الجھن کا شکار ہو جاتا ہے۔

مصنف ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم اپنے ذہن کی سوچوں سے الگ بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم ان سوچوں کے مشاہدہ کرنے والے بن سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ ہم ہر خیال کے پیچھے دوڑیں۔ جب ہم یہ شعور حاصل کر لیتے ہیں کہ ہم اپنے خیالات نہیں بلکہ خیالات کے پیچھے موجود شعور ہیں، تب ہم ذہنی سکون، خاموشی اور اندرونی سکون حاصل کرتے ہیں۔

یہی شعور — کہ ہم مشاہدہ کرنے والے ہیں — ہمیں ذہنی آزادی دیتا ہے۔ ہم اپنے خیالات کے آسمان پر اُڑتے بادلوں کی مانند انہیں آتے جاتے دیکھ سکتے ہیں۔ ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ ہر خیال کو پکڑنا ضروری نہیں، کچھ کو بس گزر جانے دینا بھی ایک حکمت ہے۔

موجودگی کی طاقت:

جب ہم حال کے لمحے میں مکمل طور پر موجود ہوتے ہیں، تو ہمیں ایک ایسی توانائی اور گہرائی کا تجربہ ہوتا ہے جو نہ تو ماضی میں ہے اور نہ مستقبل میں۔ یہ موجودگی ہمیں ہمارے وجود کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں روحانیت، سکون، شکر گزاری اور شعور سب یکجا ہوتے ہیں۔

ایکارٹ ٹولے کہتے ہیں کہ موجودگی ایک جیتی جاگتی کیفیت ہے جو ہر لمحے میسر ہو سکتی ہے — اگر ہم اسے اپنانے کا فیصلہ کریں۔ جب ہم چائے کا کپ پیتے ہوئے صرف چائے کے ذائقے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، جب ہم چلتے وقت صرف چلنے کی کیفیت کو محسوس کرتے ہیں، تب ہم موجودگی میں ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت معمولی لگ سکتی ہے، مگر یہی معمولی چیزیں روحانیت کے دروازے کھول سکتی ہیں۔

درد کا جسم (Pain Body) کیا ہے؟

ایکارٹ ٹولے ایک خاص اصطلاح استعمال کرتے ہیں: "Pain Body" یعنی درد کا جسم۔ یہ ہمارے اندر موجود وہ توانائی ہے جو ماضی کے دکھوں، محرومیوں، تلخیوں اور جذباتی صدمات سے بنی ہوتی ہے۔ یہ جسم وقتاً فوقتاً بیدار ہوتا ہے اور ہمیں پرانے زخموں کی یاد دلا کر غصہ، اداسی یا خوف میں مبتلا کر دیتا ہے۔

یہ درد کا جسم محض ذہنی نہیں بلکہ جذباتی بھی ہوتا ہے۔ یہ ہمیں ایسے حالات کی طرف لے جاتا ہے جو پرانے دکھوں کو دہراتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر کسی کو بچپن میں نظر انداز کیا گیا ہو، تو وہ لاشعوری طور پر ایسے تعلقات میں داخل ہوتا ہے جہاں وہ پھر سے نظر انداز ہو — تاکہ وہ درد کا پرانا نمونہ دوبارہ زندہ ہو سکے۔

لیکن جب ہم لاشعوری طور پر زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، تب یہ درد کا جسم ہمیں قابو میں لے لیتا ہے۔ لیکن جب ہم موجودہ لمحے میں مکمل بیداری کے ساتھ ہوتے ہیں، تو ہم اس درد کو محض ایک توانائی کے طور پر پہچان سکتے ہیں — اسے سمجھ سکتے ہیں، اور دھیرے دھیرے آزاد ہو سکتے ہیں۔

روحانی بیداری کی علامات:

روحانی بیداری وہ عمل ہے جب انسان اپنے مادی وجود سے آگے بڑھ کر اپنی روحانی شناخت کو پہچان لیتا ہے۔ یہ عمل تکلیف دہ بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ پرانی شناختیں، عقائد اور جذباتی وابستگیاں ٹوٹتی ہیں۔

لیکن جب یہ بیداری آ جاتی ہے تو انسان ہر چیز کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔ اب وہ اپنے خیالات، احساسات یا کردار کو اپنی شناخت نہیں سمجھتا بلکہ اس سے پرے ایک سکون بخش، خاموش شعور کو محسوس کرتا ہے۔ اس بیداری کا پہلا قدم موجودہ لمحے کی مکمل قبولیت ہے۔ روحانی بیداری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہر وقت خوش یا مثبت رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ ہر حالت میں شعور کے ساتھ موجود ہو — چاہے وہ خوشی ہو یا غم، کامیابی ہو یا ناکامی۔

تعلقات اور موجودگی:

انسانی تعلقات میں مسائل اکثر اس لیے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ہم دوسرے کو پوری طرح سننے اور محسوس کرنے کے بجائے اپنی سوچوں اور توقعات میں گم رہتے ہیں۔ ایکارٹ ٹولے کے مطابق، جب دونوں افراد حال کے لمحے میں پوری بیداری کے ساتھ موجود ہوں، تو تعلقات میں حقیقی محبت، قبولیت اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔

ایک بیدار انسان کا رشتہ صرف جذبات یا جسمانی کشش پر مبنی نہیں ہوتا، بلکہ وہ تعلق دل کی گہرائی اور شعور کی سطح پر قائم ہوتا ہے۔ جب ہم دوسرے کو بغیر کسی فیصلے، توقع یا تنقید کے سننا سیکھ لیتے ہیں، تو وہ شخص بھی خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے اور اس کا اصل چہرہ ہمارے سامنے آتا ہے۔ یہ تعلقات کی اصل روح ہے — موجودگی، قبولیت اور خاموشی۔

مسائل کا حل موجودگی میں:

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ مسائل کا حل زیادہ سوچنے، منصوبہ بندی کرنے یا پریشان ہونے میں ہے، لیکن ایکارٹ ٹولے کہتے ہیں کہ اصل حل صرف موجودگی میں ہے۔ جب ہم مکمل طور پر بیدار ہو کر حال میں موجود ہوتے ہیں، تب ہی ہمیں اصل حکمت، بصیرت اور سکون حاصل ہوتا ہے۔

بعض اوقات مسئلہ اتنا بڑا نہیں ہوتا جتنا ہمارا ذہن اسے بنا دیتا ہے۔ جب ہم لمحۂ حال میں واپس آ جاتے ہیں تو وہ مسئلہ بھی چھوٹا دکھائی دینے لگتا ہے، اور اس کا حل بھی سادہ معلوم ہوتا ہے۔ شعور میں آ کر ہم فیصلے بہتر لیتے ہیں، رشتے بہتر نبھاتے ہیں، اور زندگی کو زیادہ سچائی اور ہمدردی کے ساتھ جیتے ہیں۔

جسم کے ساتھ جُڑنا:

ایک اور اہم نکتہ جو کتاب میں بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے جسم کے ساتھ دوبارہ جُڑنا چاہیے۔ ہم اکثر اپنے ذہن میں گم رہتے ہیں، جسم کے احساسات اور اشاروں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ لیکن جسم ہمیں موجودہ لمحے میں لانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

جب ہم سانس پر دھیان دیتے ہیں، اپنے قدموں کی حرکت کو محسوس کرتے ہیں، یا دل کی دھڑکن کو سنتے ہیں تو ہم ذہنی شور سے نکل کر جسمانی بیداری میں آ جاتے ہیں۔ یہ ایک خوبصورت راستہ ہے موجودگی کی مشق کا۔ جسمانی بیداری ہمیں اپنی صحت کا بھی شعور دیتی ہے، ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جسم ایک معبد ہے جس میں شعور رہتا ہے — اور اس کا احترام ضروری ہے۔

موت کا نکتۂ نظر:

"The Power of Now" میں موت کے بارے میں بھی ایک نیا زاویہ پیش کیا گیا ہے۔ ایکارٹ ٹولے کہتے ہیں کہ موت صرف جسم کی ہے، اصل "میں" یعنی شعور کبھی نہیں مرتا۔ جب ہم اپنی روحانی شناخت کو پہچان لیتے ہیں، تو ہمیں موت کا خوف نہیں رہتا۔

یہ پہچان ہمیں نہ صرف سکون دیتی ہے بلکہ زندگی کو زیادہ گہرائی سے جینے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔ اب ہم ہر لمحے کو قیمتی سمجھتے ہیں، ہر رشتے کو اہم جانتے ہیں، اور ہر سانس کو شکر گزاری کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ موت کا شعور ہمیں حال میں لاتا ہے، ہمیں سکھاتا ہے کہ وقت محدود ہے، اس لیے ہر لمحہ ایک نعمت ہے۔

نتیجہ:

"The Power of Now" محض ایک کتاب نہیں بلکہ زندگی بدل دینے والا تجربہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم ماضی کے قیدی یا مستقبل کے خوف میں مبتلا رہنے کے بجائے حال کے لمحے کو مکمل طور پر جئیں۔

جب ہم موجودگی کے شعور میں جیتے ہیں، تو ہمیں اندرونی سکون، محبت، قبولیت اور آزادی حاصل ہوتی ہے۔ یہ کتاب ہر اُس شخص کے لیے ہے جو زندگی کو گہرائی سے جینا چاہتا ہے، جو خود کو جاننا چاہتا ہے، اور جو دنیا میں رہ کر دنیا سے آگے دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ ایک دعوت ہے — اپنے اندر کے سفر کی طرف، جو سب سے اہم سفر ہے۔



Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !