یہ کہانی ایک غریب گاؤں کی ہے جہاں زہرہ، اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ رہتی تھی۔ زہرہ کی زندگی انتہائی سادہ تھی، اور وہ اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ ایک چھوٹے سے کچے گھر میں رہتی تھی۔ ان کے پاس زیادہ کچھ نہیں تھا، لیکن زہرہ کا دل محبت اور خوابوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اس کے بچے کبھی بھی اس غربت میں نہ پھنسیں جس میں وہ خود زندگی گزار رہی تھی۔
زہرہ کے شوہر، حبیب، ایک چھوٹے سے کھیت پر کام کرتے تھے، اور ان کا گزارہ صرف اتنے پیسوں پر ہوتا تھا کہ ان کا ہر دن مشکل سے چل پاتا تھا۔ لیکن زہرہ نے کبھی بھی اپنے خاندان کی حالت پر افسوس نہیں کیا۔ وہ جانتی تھی کہ زندگی میں محنت اور قربانیوں کے بغیر کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
ایک دن، زہرہ نے اپنے شوہر سے کہا، "ہمیں اپنے بچوں کے لیے کچھ کرنا ہوگا، تاکہ وہ اس غربت سے باہر نکل سکیں۔" حبیب نے جواب دیا، "یہ بہت مشکل ہے، زہرہ۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟"
لیکن زہرہ نے ہمت نہیں ہاری۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ایک نئی زندگی بنانے کی کوشش کرے گی، چاہے اس کے لیے اسے کتنی بھی قربانیاں دینی پڑیں۔
زہرہ نے چھوٹے چھوٹے کام شروع کر دیے۔ وہ پڑوسیوں کے گھروں میں صفائی کرتی، کپڑے سینے اور کھانا پکانے کے کام کرتی تھی۔ اس کا مقصد صرف ایک تھا: اپنے بچوں کو بہتر تعلیم دینا اور ان کی زندگی بدلنا۔ اس نے اپنی راتوں کی نیند قربان کر دی تاکہ دن میں اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے لیے محنت کر سکے۔
ایک دن جب زہرہ کے بچوں کو اسکول میں داخل کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت پیش آئی، تو اس نے اپنے زیورات بیچ ڈالے تاکہ وہ اپنے بچوں کو پڑھا سکے۔ اس نے جانا کہ اس کی قربانی ایک دن رنگ لائے گی اور اس کے بچے وہ سب کچھ حاصل کریں گے جو وہ کبھی نہیں کر پائی تھی۔
سالوں تک زہرہ نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے کام کیا، اور آہستہ آہستہ وہ دونوں بچے بڑی محنت سے پڑھتے گئے۔ ایک دن اس کی بیٹی، سارہ، نے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی اور ایک کامیاب ڈاکٹر بن گئی۔ اس کے بیٹے، احمد، نے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور ایک بڑے انجینئر کے طور پر کام کرنے لگا۔
زہرہ کا خواب حقیقت میں بدل چکا تھا۔ اس نے اپنی تمام قربانیوں اور محنت کے ساتھ اپنے بچوں کے لیے ایک بہتر مستقبل بنایا تھا۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہی تھی کہ اس کے بچے اب اس غربت سے باہر نکل چکے تھے جس میں وہ خود زندگی گزار رہی تھی۔
زہرہ نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا کہ اس کی قربانیاں اتنی بڑی کامیابی کی بنیاد بنیں گی، لیکن اس کی محبت اور محنت نے اس کی تقدیر بدل دی۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہی تھی کہ اس نے اپنے بچوں کے لیے وہ سب کچھ کیا جس کی وہ کبھی خود خواہش کرتی تھی۔
سبق:
غربت اور مشکلات کے باوجود، اگر انسان کے اندر عزم، محبت، اور قربانی کا جذبہ ہو، تو وہ اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔ زہرہ کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ والدین کی قربانیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ جب ہم اپنے بچوں کے لیے محنت کرتے ہیں، تو ایک دن وہ ہمیں فخر اور کامیابی کا سبب بن کر دکھاتے ہیں۔
.png)
.png)