Jack Ma's Inspiring Journey motivation story

0
Jack Ma's Inspiring Journey motivation story

جیک ما، جن کا اصل نام ما یون ہے، 10 ستمبر 1964 کو چین کے شہر ہانگزو میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن ایک عام چینی خاندان میں گزرا، جو مالی طور پر زیادہ مستحکم نہیں تھا۔ ان کے والدین لوک موسیقی اور کہانی سنانے کا کام کرتے تھے، لیکن ان کی آمدنی بہت کم تھی۔

چین اُس وقت دنیا سے زیادہ جُڑا ہوا نہیں تھا، اور غیر ملکی زبانوں خصوصاً انگریزی کا استعمال بہت کم تھا۔ جیک ما کو انگریزی زبان سے بے حد دلچسپی تھی، لیکن انہیں سیکھنے کا کوئی خاص موقع نہیں ملا۔ اس کے باوجود، انہوں نے خود کو انگریزی سکھانے کا فیصلہ کیا اور ہر روز 40 منٹ تک سائیکل چلا کر ایک ہوٹل جاتے، جہاں غیر ملکی سیاح آتے تھے۔ وہ سیاحوں کے ساتھ بات کرتے اور انہیں اپنے شہر کی سیر کراتے تاکہ انگریزی سیکھ سکیں۔

یہی محنت رنگ لائی، اور چند سالوں میں وہ انگریزی بولنے میں کافی مہارت حاصل کر گئے۔ اس دوران، ان کا ایک امریکی دوست بنا، جس نے ان کا نام "جیک" رکھا، کیونکہ "ما یون" غیر ملکیوں کے لیے مشکل تھا۔

جیک ما ایک شاندار طالب علم نہیں تھے۔ انہیں پرائمری اور مڈل اسکول میں کئی بار فیل ہونا پڑا۔ جب وہ کالج میں داخلہ لینا چاہتے تھے، تو انہیں تین بار مسترد کر دیا گیا۔ بڑی مشکل سے وہ ہانگزو ٹیچرز انسٹی ٹیوٹ میں داخل ہوئے اور وہاں سے انگریزی میں ڈگری حاصل کی۔

گریجویشن کے بعد، جیک ما کو نوکری کی تلاش میں بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے 30 مختلف کمپنیوں میں ملازمت کے لیے درخواست دی، لیکن سب نے انکار کر دیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے کے ایف سی (KFC) میں بھی اپلائی کیا، جہاں 24 میں سے 23 امیدواروں کو منتخب کیا گیا، لیکن صرف جیک ما کو مسترد کر دیا گیا۔

یہ تمام ناکامیاں جیک ما کے حوصلے کو توڑ نہیں سکیں۔ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ کامیابی چاہتے ہیں، تو انہیں خود کچھ کرنا ہوگا۔

انٹرنیٹ سے پہلی ملاقات اور نیا آئیڈیا

1995 میں، جیک ما پہلی بار امریکہ گئے، جہاں انہوں نے پہلی بار انٹرنیٹ کا استعمال کیا۔ انہوںیں "بیئر" (Beer) تلاش کیا، تو انہیں کئی ممالک کے بیئر برانڈز کے بارے میں معلومات ملیں، لیکن چین کے بارے میں کچھ نہیں تھا۔ اس سے انہیں احساس ہوا کہ چین انٹرنیٹ کی دنیا میں بہت پیچھے ہے۔

اسی لمحے، انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ چین میں انٹرنیٹ کو فروغ دینے کے لیے کچھ کریں گے۔ وہ واپس آئے اور اپنی پہلی کمپنی "چائنا پیجز" بنائی، جو ایک آن لائن ڈائریکٹری تھی۔ یہ کامیاب تو نہ ہوئی، لیکن اس سے جیک ما کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔

1999 میں، جیک ما نے اپنے 17 دوستوں کے ساتھ مل کر علی بابا گروپ کی بنیاد رکھی۔ ان کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے، لیکن ان کے پاس ایک بڑا خواب تھا—چین میں ایک ایسا ای کامرس پلیٹ فارم بنانا، جو چھوٹے کاروباری افراد کو آن لائن کاروبار کا موقع دے سکے۔

جیک ما نے علی بابا کا نام "علی بابا اور چالیس چور" کی کہانی سے لیا، کیونکہ یہ نام ہر زبان میں آسانی سے پہچانا جا سکتا تھا اور اس کا مطلب تھا "خزانے کا دروازہ"۔

علی بابا کو کامیاب بنانے میں جیک ما اور ان کی ٹیم کو بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پہلے پانچ سال تک کمپنی کو کوئی خاص منافع نہیں ہوا۔ سرمایہ کاروں نے ان کے آئیڈیا پر یقین نہیں کیا، اور کئی بار کمپنی دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئی۔

لیکن جیک ما نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ ہر دن اپنی ٹیم کو جوش و خروش سے کام کرنے کا حوصلہ دیتے اور انہیں یقین دلاتے کہ علی بابا ایک دن دنیا کی سب سے بڑی کمپنی بنے گی۔

2005 میں، یاہو (Yahoo) نے علی بابا میں 1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جس سے کمپنی کو زبردست ترقی ملی۔ اس کے بعد، علی بابا نے چین کے ای کامرس مارکیٹ پر مکمل قبضہ کر لیا اور ٹاؤ باؤ (Taobao) اور علی پے (AliPay) جیسے پلیٹ فارمز متعارف کرائے، جو آج بھی دنیا میں بہت مقبول ہیں۔

2014 میں، علی بابا نے نیویارک اسٹاک ایکسچینج (NYSE) میں 25 بلین ڈالر کا ریکارڈ آئی پی او (Initial Public Offering) لانچ کیا، جو تاریخ کا سب سے بڑا آئی پی او تھا۔


جیک ما کی کہانی ہمیں کئی اہم سبق سکھاتی ہے:

ناکامی کوئی رکاوٹ نہیں  جیک ما کئی بار فیل ہوئے، لیکن انہوں نے کبھی ہار نہیں مانی۔نئے آئیڈیاز پر یقین رکھیں انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں میں، کسی کو نہیں لگتا تھا کہ علی بابا کامیاب ہوگا، لیکن جیک ما نے اس پر یقین رکھا۔

خواب بڑے ہوں، لیکن قدم چھوٹے چھوٹے لیں  علی بابا کی کامیابی ایک دن میں نہیں ہوئی، بلکہ کئی سالوں کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ تھی۔کامیابی پیسوں سے نہیں، سوچ سے حاصل ہوتی ہے  جیک ما نے ثابت کیا کہ پیسے کے بغیر بھی کوئی بڑی کمپنی بنائی جا سکتی ہے، اگر آپ میں عزم اور محنت کا جذبہ ہو۔

نتیجہ

جیک ما، جو کبھی نوکری کے لیے ترستے تھے، آج دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہیں۔ انہوں نے علی بابا کو ایک چھوٹے سے آئیڈیا سے شروع کیا اور اسے 500 ارب ڈالر سے زائد کی کمپنی بنا دیا۔

ان کی کہانی دنیا بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک سبق ہے کہ اگر آپ ہمت، محنت، اور استقامت کے ساتھ اپنے خوابوں پر کام کریں، تو کوئی بھی مشکل آپ کو کامیابی سے نہیں روک سکتی۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !