The Mountain Is You Overcome Self Sabotage and Transform Your Life

0
The Mountain Is You Overcome Self Sabotage and Transform Your Life

کبھی کبھی زندگی میں سب کچھ بظاہر ٹھیک ہونے کے باوجود انسان اندر سے رُکا ہوا محسوس کرتا ہے، مواقع موجود ہوتے ہیں، صلاحیت بھی کم نہیں ہوتی، نیت بھی صاف ہوتی ہے، مگر پھر بھی آگے بڑھنے کی رفتار کہیں کھو جاتی ہے، اور انسان خود سے یہ سوال پوچھنے لگتا ہے کہ آخر مسئلہ کہاں ہے، The Mountain Is You اسی سوال سے بحث نہیں کرتی بلکہ اسے خاموشی سے انسان کے سامنے رکھ دیتی ہے، اور پھر انتظار کرتی ہے کہ قاری خود اس کا جواب ڈھونڈے، کیونکہ اصل مسئلہ باہر کی circumstances میں نہیں بلکہ اندر کی internal resistance میں چھپا ہوتا ہے۔

یہ کتاب اس illusion کو توڑتی ہے کہ ہر رکاوٹ باہر سے آتی ہے، یہ ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ بعض اوقات ہم خود اپنی زندگی میں وہ پہاڑ بن جاتے ہیں جسے ہم قسمت، حالات یا لوگوں کا نام دے دیتے ہیں، اور جب انسان اپنی growth کو بار بار ایک ہی جگہ رکتا دیکھتا ہے تو وہ اسے بدقسمتی سمجھ لیتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک repeating pattern ہوتا ہے جو اس کے اپنے اندر جنم لے چکا ہوتا ہے۔

خاموش Self-Sabotage کی پہچان

Understanding Self-Sabotage

برائنا ویسٹ Self-Sabotage کو کسی dramatic تباہی کے طور پر پیش نہیں کرتیں، وہ یہ نہیں کہتیں کہ انسان جان بوجھ کر اپنی زندگی خراب کرتا ہے، بلکہ وہ دکھاتی ہیں کہ Self-Sabotage زیادہ تر چھوٹے، محفوظ اور بظاہر سمجھدار فیصلوں میں چھپی ہوتی ہے، وہ فیصلہ کہ ابھی وقت ٹھیک نہیں، وہ سوچ کہ میں ابھی ready نہیں، وہ تاخیر جسے ہم planning کا نام دے دیتے ہیں، یہی چھوٹی چیزیں وقت کے ساتھ ایک مضبوط mental habit بن جاتی ہیں۔

یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ ہم خود کو اس لیے sabotage نہیں کرتے کہ ہم ناکام ہونا چاہتے ہیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ہم کسی نقصان سے بچنا چاہتے ہیں، اور اکثر وہ نقصان کامیابی کا نہیں بلکہ اس identity کا ہوتا ہے جو ہم نے اپنے درد، خوف اور ماضی کے تجربات کے ساتھ جوڑ لی ہوتی ہے، کیونکہ جب درد ہی شناخت بن جائے تو healing ہمیں خطرہ محسوس ہونے لگتی ہے، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں انسان unknowingly اپنی ہی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

وہ دیواریں جو کبھی حفاظت تھیں

Protective Walls Turn Into Prisons

انسان زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اپنے دل کو بچانے کے لیے کچھ دیواریں کھڑی کرتا ہے، کسی دھچکے کے بعد، کسی رد ہونے کے تجربے کے بعد، یا کسی گہرے emotional loss کے بعد، یہ دیواریں اس وقت ایک survival mechanism ہوتی ہیں، اور وہ واقعی ہمیں مزید ٹوٹنے سے بچا لیتی ہیں، مسئلہ یہ نہیں کہ ہم نے یہ دیواریں کیوں بنائیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم وقت کے ساتھ انہیں گرانا بھول جاتے ہیں۔

وقت گزرتا ہے، حالات بدل جاتے ہیں، مگر دیواریں وہیں رہتی ہیں، اور آہستہ آہستہ جو دیواریں کبھی حفاظت تھیں وہ قید بن جاتی ہیں، اور انسان یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید یہی اس کی اصل زندگی ہے، The Mountain Is You ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اکثر ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ماضی نہیں بلکہ وہ unquestioned defenses ہوتے ہیں جنہیں ہم نے آج تک چیلنج ہی نہیں کیا۔

خوف: دشمن نہیں، اشارہ

Fear Is a Signal, Not an Enemy

اس کتاب کی سب سے طاقتور بات یہ ہے کہ یہ خوف کو دشمن بنا کر پیش نہیں کرتی، یہ خوف کو ایک signal کہتی ہے، ایک ایسا اشارہ جو ہمیں بتاتا ہے کہ کہیں نہ کہیں ہم خود سے سچ چھپا رہے ہیں، ہم خوف کو کمزوری سمجھ کر اسے logic، realism یا overthinking کے پردے میں چھپا دیتے ہیں، مگر جب خوف کو سنا نہیں جاتا تو وہ رویوں میں بدل جاتا ہے، وہ procrastination بن جاتا ہے، وہ avoidance بن جاتا ہے، اور آخرکار وہی ہماری زندگی کے فیصلے control کرنے لگتا ہے۔

برائنا ویسٹ کہتی ہیں کہ اصل strength خوف کو دبانے میں نہیں بلکہ اسے سمجھنے میں ہے، کیونکہ جو خوف سمجھ لیا جائے وہ ہمیں روکنے کے بجائے رہنمائی کرنے لگتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں پہاڑ آہستہ آہستہ راستہ بننا شروع ہو جاتا ہے، مگر شرط یہ ہے کہ انسان خود سے ایماندار ہو، کیونکہ یہ کتاب راستہ دکھاتی ضرور ہے، مگر قدم انسان کو خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔

Self-Sabotage: خاموش دشمن جو اندر ہی اندر سب کچھ روک دیتا ہے

اگر انسان اپنی زندگی کو غور سے دیکھے تو ایک عجیب سا pattern سامنے آتا ہے۔
ہم بہت کچھ شروع کرتے ہیں، لیکن بہت کم چیزوں کو مکمل انجام تک پہنچاتے ہیں۔
ہم خواب دیکھتے ہیں، plans بناتے ہیں، نیت بھی مضبوط ہوتی ہے، مگر عین اس مقام پر جا کر جہاں چیزیں بدل سکتی ہیں، ہم خود ہی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
برِیانا ویسٹ اسی رویّے کو Self-Sabotage کہتی ہے — ایک ایسا عمل جو شور نہیں مچاتا، مگر آہستہ آہستہ انسان کی پوری زندگی کو روک دیتا ہے۔

Self-Sabotage کوئی ایک بڑا غلط فیصلہ نہیں ہوتا۔
یہ چھوٹے چھوٹے، بظاہر harmless choices ہوتے ہیں۔
آج نہیں، کل کر لیں گے۔
ابھی وقت ٹھیک نہیں۔
تھوڑا اور سوچ لیتے ہیں۔
یہ وہ فیصلے ہیں جو ہمیں وقتی سکون دیتے ہیں، مگر لمبے عرصے میں ہماری growth کو مار دیتے ہیں۔

Comfort Zone کا دھوکہ

کتاب ہمیں ایک کڑوا مگر سچا نکتہ سمجھاتی ہے:
اکثر ہم Self-Sabotage اس لیے نہیں کرتے کہ ہمیں ناکامی پسند ہے، بلکہ اس لیے کہ ہمیں change سے ڈر لگتا ہے۔
انسان کا دماغ Comfort Zone میں رہنا چاہتا ہے، چاہے وہ Comfort Zone تکلیف دہ ہی کیوں نہ ہو۔
کیونکہ جو تکلیف جانی پہچانی ہو، وہ نامعلوم کامیابی سے کم خوفناک لگتی ہے۔

ہم ایک غلط رشتے میں رہتے ہیں کیونکہ اکیلا ہونے کا خوف زیادہ ہوتا ہے۔
ہم ایک ایسے کام سے چمٹے رہتے ہیں جو ہمیں خوش نہیں کرتا، کیونکہ نیا راستہ uncertain ہوتا ہے۔
برِیانا ویسٹ کہتی ہے کہ Self-Sabotage دراصل دماغ کا ایک defense mechanism ہے —
یہ ہمیں بچانے کے لیے بنا تھا، مگر وقت کے ساتھ یہی حفاظت ایک قید بن جاتی ہے۔

Fear دشمن نہیں، Signal ہے

The Mountain Is You کی سب سے طاقتور بات یہ ہے کہ یہ Fear کو ولن نہیں بناتی۔
یہ کہتی ہے کہ خوف ایک signal ہے، ایک پیغام۔
یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کسی ایسی حد کے قریب ہیں جہاں ہماری پرانی شناخت ٹوٹ سکتی ہے۔

ہم خوف کو اکثر کمزوری سمجھتے ہیں۔
ہم خود کو Strong دکھانے کے لیے اسے Logic، Planning یا Realism کا نام دے دیتے ہیں۔
لیکن جب خوف کو سمجھا نہ جائے تو وہ رویّوں میں بدل جاتا ہے:
Procrastination، Avoidance، Overthinking
اور پھر ہم کہتے ہیں کہ قسمت ساتھ نہیں دے رہی، حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ہم خود ہی رک گئے ہوتے ہیں۔

مسئلہ قسمت نہیں، Pattern ہے

انسان جب بار بار ایک ہی طرح کے جذباتی انجام پر پہنچتا ہے تو وہ اسے قسمت کہہ دیتا ہے۔
مگر یہ کتاب کہتی ہے:
یہ قسمت نہیں، یہ pattern ہے۔
ایک ایسا Pattern جو کسی وقت ہمیں جذباتی چوٹ سے بچانے کے لیے بنا تھا۔

کسی ایک تجربے کے بعد ہم نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ دوبارہ ویسا درد نہیں سہیں گے۔
ہم نے دل کے گرد دیواریں کھڑی کر لیں۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہم نے یہ دیواریں کیوں بنائیں،
مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے وقت آنے پر انہیں remove نہیں کیا۔

وقت کے ساتھ وہی دیواریں جو ہمیں محفوظ رکھتی تھیں، ہمیں آگے بڑھنے سے روکنے لگتی ہیں۔

Emotional Triggers: وہ زخم جو آج بھی فیصلے کر رہے ہیں

ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے فیصلے عقل سے کرتے ہیں، logic سے سوچتے ہیں، حالات کو دیکھ کر ردِعمل دیتے ہیں۔
لیکن The Mountain Is You ایک خاموش حقیقت سامنے رکھتی ہے:
ہماری زندگی کے زیادہ تر فیصلے ہمارے Emotional Triggers چلاتے ہیں، نہ کہ ہمارا شعور۔

Emotional Trigger وہ لمحہ ہوتا ہے جب حال کی کوئی چھوٹی سی بات ماضی کے کسی گہرے زخم کو چھیڑ دیتی ہے۔
کسی کا ایک جملہ، کسی کی خاموشی، کسی موقع کا دباؤ —
اور ہم لاشعوری طور پر وہی ردِعمل دے دیتے ہیں جو کبھی ہمیں بچانے کے لیے سیکھا تھا۔
یہ ردِعمل آج ہمارے لیے relevant نہیں ہوتا، مگر ہم اسے پہچان نہیں پاتے۔

Healing اور Coping میں فرق

برِیانا ویسٹ ایک نہایت اہم فرق واضح کرتی ہے:
Healing اور Coping ایک جیسی چیزیں نہیں ہیں۔

Coping وہ طریقہ ہے جس سے ہم درد کو وقتی طور پر سنبھال لیتے ہیں۔
خود کو مصروف رکھنا، جذبات کو دبا دینا، خود کو Strong ظاہر کرنا —
یہ سب Coping ہے۔
یہ ہمیں ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے، مگر بدلتا نہیں۔

Healing اس کے برعکس ایک مشکل عمل ہے۔
Healing میں ہم درد کو محسوس کرتے ہیں، اسے سمجھتے ہیں،
اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جو ہوا، اس نے ہمیں بدلا ہے۔
Healing ہمیں Comfort Zone سے باہر نکالتی ہے،
جبکہ Coping ہمیں اسی دائرے میں محفوظ رکھتی ہے۔

کتاب کہتی ہے:
جب تک ہم Healing کی طرف نہیں آتے،
ہم بار بار وہی patterns دہراتے رہیں گے — چاہے جگہ، لوگ اور حالات بدل جائیں۔

Identity Shift: سب سے مشکل مرحلہ

The Mountain Is You کا سب سے گہرا نکتہ یہ ہے کہ
Self-Sabotage اصل میں کامیابی کا خوف نہیں ہوتا،
بلکہ Identity Shift کا خوف ہوتا ہے۔

ہم اس شناخت سے جڑے ہوتے ہیں جو ہم نے اپنے درد کے گرد بنائی ہوتی ہے۔
وہ شناخت جو کہتی ہے:
“میں ایسا ہی ہوں”
“میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے”
“میں اس سے زیادہ کا نہیں ہوں”

جب زندگی ہمیں آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے،
تو ہمیں صرف حالات نہیں بدلنے پڑتے،
ہمیں خود کو بھی بدلنا پڑتا ہے۔
اور یہی تبدیلی سب سے زیادہ uncomfortable ہوتی ہے۔

کامیاب ہونا صرف منزل پر پہنچنا نہیں،
یہ اس شخص کو چھوڑنا ہے جو ہم درد کے وقت بنے تھے۔

Responsibility: الزام سے آزادی

یہ کتاب الزام نہیں لگاتی،
یہ ہمیں Responsibility دیتی ہے —
اور Responsibility دراصل آزادی کی پہلی شکل ہوتی ہے۔

جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ
ہماری زندگی کے کچھ مسائل ہم خود create کر رہے ہیں،
تو اسی لمحے ہمیں یہ طاقت بھی مل جاتی ہے
کہ ہم انہیں بدل سکتے ہیں۔

Self-Sabotage کا خاتمہ خود سے جنگ جیتنے سے نہیں ہوتا،
بلکہ خود کو سمجھنے سے ہوتا ہے۔
جس دن ہم اپنے رویّوں کو دشمن نہیں بلکہ پیغام سمجھ لیتے ہیں،
اسی دن پہاڑ راستہ بننا شروع ہو جاتا ہے۔

Letting Go: وہ مرحلہ جہاں انسان خود کو آزاد کرتا ہے

انسان عموماً یہ سمجھتا ہے کہ چھوڑ دینا کمزوری کی علامت ہے، کہ کسی چیز کو تھامے رکھنا ہی طاقت ہے، مگر The Mountain Is You اس سوچ کو جڑ سے ہلا دیتی ہے۔ یہ کتاب کہتی ہے کہ Letting go اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ جو چیز کبھی اس کے لیے سہارا تھی، آج وہی اس کی ترقی میں رکاوٹ بن چکی ہے۔ ہم بعض اوقات دکھ، ناکامی، یا کسی پرانے رشتے کو اس لیے نہیں چھوڑ پاتے کیونکہ ہم نے اپنی identity اس سے جوڑ لی ہوتی ہے، اور جب چھوڑنے کی بات آتی ہے تو ہمیں یوں لگتا ہے جیسے ہم خود کو ہی کھو دیں گے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم چیزوں کو نہیں تھامے ہوتے، چیزیں ہمیں تھامے ہوتی ہیں، اور آزادی وہ لمحہ ہے جب ہم یہ گرفت پہچان لیتے ہیں۔

Emotional Maturity: ردِعمل سے شعور تک کا سفر

برِیانا ویسٹ Emotional Maturity کو شور یا سختی سے نہیں جوڑتی، بلکہ خاموش سمجھ داری سے تعبیر کرتی ہے۔ جذباتی پختگی اس جگہ پیدا ہوتی ہے جہاں انسان ہر تکلیف کو فوراً react کرنے کے بجائے اس پر غور کرنا سیکھ لیتا ہے، جہاں ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں لگتا، اور جہاں خاموشی کو شکست نہیں بلکہ self-control سمجھا جاتا ہے۔ انسان جب تک ہر جذباتی لہر کے ساتھ بہتا رہتا ہے، وہ اپنے زخموں کا غلام رہتا ہے، مگر جس دن وہ اپنے اندر اٹھنے والے احساس کو دیکھ کر بھی اس کے تابع ہونے سے انکار کر دیتا ہے، وہی دن اصل بلوغت کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ پختگی ہمیں سخت نہیں بناتی، بلکہ ہمیں متوازن بناتی ہے۔

Self as a Safe Place: دوسروں سے خود تک کا سفر

کتاب کا ایک نہایت گہرا پیغام یہ ہے کہ ہم اکثر اپنی زندگی میں وہ تحفظ، وہ سکون اور وہ یقین دوسروں سے مانگتے ہیں جو ہمیں خود کو دینا چاہیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہمیں سمجھے، ہمیں تھامے، ہمیں یہ احساس دلائے کہ ہم کافی ہیں، مگر self-healing اس وقت شروع ہوتی ہے جب ہم خود اپنے لیے وہ جگہ بن جاتے ہیں جہاں ہمیں خود کو ثابت نہ کرنا پڑے۔ جب انسان اپنے خوف، اپنی خامیوں اور اپنی کمزوریوں کے ساتھ بھی خود کے ساتھ کھڑا ہونا سیکھ لیتا ہے تو وہ دنیا کی بے اعتنائی سے ٹوٹتا نہیں، بلکہ مضبوط ہوتا ہے۔ یہ اندرونی تحفظ انسان کو دوسروں پر انحصار سے آزاد کر دیتا ہے۔

Quiet Growth: تبدیلی جو نظر نہیں آتی مگر سب بدل دیتی ہے

The Mountain Is You ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اصل Growth کبھی ڈھول تاشوں کے ساتھ نہیں آتی۔ زیادہ تر تبدیلی خاموش ہوتی ہے، ایسی کہ کسی کو خبر نہیں ہوتی، مگر انسان خود جانتا ہے کہ اب وہ پہلے جیسا نہیں رہا۔ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب ہم وہی غلط فیصلہ دوبارہ نہیں کرتے، وہی نقصان دہ ردِعمل نہیں دیتے، اور شعوری طور پر ایک نیا choice کرتے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی ایک دن میں مکمل نہیں ہوتی، مگر ہر ایسا لمحہ ایک اینٹ کی طرح ہماری نئی زندگی کی بنیاد رکھتا ہے۔

اندر کا پہاڑ شفٹ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

The Mountain Within Begins to Shift

جب انسان اپنے اندر کے خوف کو سمجھ لیتا ہے، اپنے پرانے رویّوں کو پہچان لیتا ہے، اور اپنی تکلیف کو دشمن کے بجائے استاد مان لیتا ہے تو پہاڑ آہستہ آہستہ اپنی جگہ بدلنے لگتا ہے۔ کتاب ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ پہاڑ باہر نہیں، ہمارے اندر تھا، اور جیسے ہی ہم خود سے سچ بولنا شروع کرتے ہیں، transformation خاموشی سے اپنا کام شروع کر دیتی ہے۔ یہ سفر آسان نہیں، مگر یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں خود تک لے جاتا ہے۔

The Mountain Is You ہمیں آخر میں کسی بڑے نعرے، کسی فوری حل یا کسی خوابناک وعدے کے ساتھ رخصت نہیں کرتی، بلکہ ایک نہایت خاموش مگر بھاری سچ ہمارے ہاتھ میں تھما دیتی ہے۔ یہ کتاب ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ زندگی کے مسائل کیسے ختم کیے جائیں، بلکہ یہ سمجھاتی ہے کہ ہم خود کو کیسے اس قابل بنائیں کہ مسائل ہمیں توڑ نہ سکیں۔ اصل تبدیلی باہر کے حالات بدلنے سے نہیں آتی، اصل تبدیلی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسان خود سے جھوٹ بولنا چھوڑ دیتا ہے اور اپنے اندر چھپے خوف، درد اور self-sabotage کو پہچان لیتا ہے۔

انسان جب یہ تسلیم کر لیتا ہے کہ وہ ہمیشہ مظلوم نہیں رہا، کہ کچھ جگہوں پر وہ خود بھی اپنی تکلیف کا حصہ تھا، تو یہ احساس اسے کمزور نہیں کرتا بلکہ آزاد کرتا ہے۔ Responsibility کا یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان اپنے ماضی کو الزام دینے کے بجائے اسے سمجھنا شروع کرتا ہے، اور جب سمجھ آ جائے تو پھر وہی ماضی انسان کی سب سے بڑی strength بن جاتا ہے۔ یہ کتاب ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم اپنے زخموں کو مٹانے کی کوشش نہ کریں بلکہ انہیں شعور میں بدل دیں، کیونکہ زخم چھپانے سے نہیں، سمجھنے سے بھر جاتے ہیں۔

آخرکار، The Mountain Is You ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ہم جس کامیابی، سکون اور اطمینان کی تلاش میں باہر بھٹکتے رہے، وہ سب پہلے ہی ہمارے اندر موجود تھا۔ ہمیں صرف اس آواز کو سننا سیکھنا تھا جو خوف کے نیچے دب چکی تھی، ہمیں صرف اپنے آپ کو وہ اجازت دینی تھی کہ ہم بدل سکیں، بغیر شرمندگی اور بغیر معذرت کے۔ جب انسان خود کو بدلنے کی اجازت دے دیتا ہے، تو پہاڑ راستہ نہیں روکتا، بلکہ راستہ بن جاتا ہے — اور یہی اصل transformation ہے۔

اگر آپ کو یہ کتاب سمجھ میں آئی، اگر آپ نے ان لائنوں میں کہیں خود کو پہچان لیا، یا اگر ان خیالات نے آپ کو ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کیا، تو شاید یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ ہمارے بلاگ پر ہم اسی طرح کے deep mindset, self-awareness اور emotional growth سے جڑے موضوعات پر تحریریں شیئر کرتے رہتے ہیں، جو صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ خود کو سمجھنے کے لیے لکھی جاتی ہیں۔ اگر آپ ایسے ہی مضامین مزید پڑھنا چاہتے ہیں، تو ہمارے بلاگ کو ضرور فالو کریں — ممکن ہے اگلا مضمون آپ کے اندر کے کسی اور پہاڑ کو پہچاننے میں مدد دے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !