ایک وقت کی بات ہے، پنجاب کے ایک خوبصورت اور سرسبز گاؤں میں تین دوست رہتے تھے: ساجد، ماجد اور راشد۔ یہ تینوں بچپن کے دوست تھے، لیکن ان کی عقل اکثر انہیں شرمندگی میں ڈال دیتی تھی۔ گاؤں والے انہیں "تین نادان" کے نام سے پکارتے تھے۔ ان کے دل صاف تھے، مگر دماغ کچھ کمزور۔
ایک دن تینوں دوستوں نے فیصلہ کیا کہ ہم شہر جا کر کچھ کمائیں گے، تاکہ اپنے گاؤں والوں کو دکھا سکیں کہ ہم بھی کچھ کر سکتے ہیں۔
راستے میں جاتے ہوئے، انہیں ایک زخمی پرندہ نظر آیا۔ راشد نے کہا، "یہ اللہ کی مخلوق ہے، ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے۔" انہوں نے پرندے کو اپنے کپڑے میں لپیٹا، پانی پلایا، اور درخت کے نیچے محفوظ جگہ پر رکھ دیا۔
ساجد بولا، "ہم نے بڑا نیکی کا کام کیا ہے، اب ہمیں ضرور انعام ملے گا۔"
شہر پہنچ کر جب وہ ایک ہوٹل میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، تو بل دینے کے بعد ساجد نے کہا، "ہم نے نیکی کی ہے، اللہ ہمیں یہ پیسے واپس ضرور دے گا۔" لیکن جیب میں پیسے ختم ہو چکے تھے، اور ہوٹل والے نے انہیں برتن دھونے پر مجبور کر دیا۔
راشد آہستہ سے بولا، "لگتا ہے پرندہ دعا دینا بھول گیا!"
اگلے دن وہ ایک جوتوں کی دکان پر گئے۔ ماجد نے ایک خوبصورت جوتے کی جوڑی دیکھی اور دکاندار سے کہا، "ہم تینوں اسے پہنیں گے۔"
دکاندار حیران ہو کر بولا، "یہ جوتے تو صرف دو ہیں!"
ماجد بولا، "ہاں، ایک دن ساجد پہنے گا، ایک دن میں، اور اگلے دن راشد!"
راشد نے بھی جوش میں کہا، "یا پھر ایک ایک جوتا ہم تینوں پہنیں گے۔"
دکاندار نے زور سے قہقہہ لگایا اور کہا، "جاؤ، تم جوتے نہیں عقل خریدنے آؤ اگلی بار۔"
کچھ دنوں بعد، تینوں کو ایک نوکری ملی – ایک امیر زمیندار کے کھیتوں میں مزدوری کی۔
زمیندار نے کہا، "یہ بیج تمہیں زمین میں بونا ہے، اور ایک ہفتے بعد تمہیں مزدوری کی اجرت ملے گی۔"
لیکن راشد نے بیج پانی کے نالے میں ڈال دیے۔ ماجد نے کچھ بیج زمین پر رکھ دیے بغیر گڑھے کھودے، اور ساجد نے بیجوں کو ہاتھ میں ہی رکھ کر سورج کی طرف اٹھا دیا اور کہا، "سورج ان کو طاقت دے گا!"
زمیندار آیا، اور غصے سے بولا، "تم تینوں بےوقوف ہو یا مذاق کر رہے ہو؟"
انہوں نے کہا، "ہم نے نیت نیک رکھی تھی۔"
زمیندار نے سب کو کھیت سے نکال دیا۔
مایوس ہو کر تینوں ایک بزرگ درویش کے پاس گئے۔ ساجد بولا، "ہم نیکی کرتے ہیں، مگر نقصان ہوتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں، مگر سب ہنستے ہیں۔ ہم کام کرتے ہیں، مگر نتیجہ الٹا نکلتا ہے۔"
درویش مسکرا کر بولا،
"نیت نیک ہو تو رب راضی ہوتا ہے، مگر نیت کے ساتھ عقل بھی عطا کی گئی ہے۔ اگر عقل کو استعمال نہ کرو، تو نیکی بھی بےوقت ہو جاتی ہے۔"
پھر درویش نے تینوں کو ایک مثال دی،
"اگر تم پانی بھرنے جا رہے ہو، اور برتن میں سوراخ ہو، تو نیکی کرنا ہے یا عقل سے کام لے کر برتن بدلنا ہے؟"
تینوں دوستوں نے سر جھکا لیا۔
راشد بولا، "ہم نے کبھی سوچا ہی نہیں، صرف جذبات سے کام لیا۔"
گاؤں واپس آ کر تینوں نے دوبارہ زندگی شروع کی، لیکن اس بار انہوں نے ہر قدم پر سوچ بچار سے کام لینا شروع کیا۔ ساجد نے ایک سبزی کی دکان کھولی، ماجد نے گائے پالنا شروع کی، اور راشد نے بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔
اب لوگ انہیں "تین نادان" نہیں، بلکہ "تین سیانے" کہنے لگے۔صرف دل کی بات نہ سنو، دماغ کو بھی ساتھ رکھو۔ نیکی اور عقل دونوں لازم ہیں، ورنہ انجام شرمندگی ہو سکتا ہے۔
.png)
.png)